Posts

گیارہ ستمبر سے پچیس سال بعد: گرتے ہوئے مینار، بکھرتے بیانیے اور غیر نوآبادیاتی حقیقت

Image
از : محمد بلال افتخار خان گیارہ ستمبر دوہزار ایک۔۔۔ کو ہونے والے افسوس ناک حملوں نے جہاں عالمی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔۔۔ امریکی اشرافیہ جو سویت یونین کے ذوال کے بعد سے پیکس امریکانہ کا خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کو اپنے مفادات اور ہیجیمونی  قائم کرنے کا بھرپور موقع دیا۔۔۔ وہین  نیویارک کے جڑواں ٹاورز کا زمین بوس ہونا۔۔۔ صرف کنکریٹ اور لوہے کے ڈھانچوں کا گرنا نہیں تھا۔۔۔ بلکہ یہ اس جدید مغربی فکری عمارت کے گرنے کا نقطہ آغاز تھا جس نے خود کو تاریخ کا حتمی سچ بنا کر پیش کیا تھا۔۔۔  فرانسس فوکویاما ۔۔۔نے دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ مغربی لبرل جمہوریت تاریخ کی معراج ہے۔۔۔ اب تاریخ ختم ہو چکی ہے۔۔۔۔ مگر ٹھیک پچیس سال بعد، آج دوہزار چھبیس  میں کھڑے ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھیں ۔۔۔تو واضح ہوتا ہے کہ تاریخ ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ بلکہ وہ اپنے اس غیر نوآبادیاتی (ڈی کلونیل) اور مابعد جدید (پوسٹ ماڈرن) موڑ پر داخل ہو رہی تھی جہاں طاقت، سچائی اور مرکزیت کے تمام روایتی پیمانے چکنا چور ہو گئے۔۔۔ گیارہ ستمبر کے بعد ربع صدی کے اس سفر نے دنیا کو کیسے بدلا؟ اس کا جواب کسی روای...

جی پی ٹی کی نظر: کیسے مصنوعی ذہانت ہمارے طلبہ کو پتھر بنا رہی ہے

Image
ہم ایک بہت بڑے اور بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں، جسے بہت سے لوگ یا تو دیکھ نہیں پا رہے ہیں یا پھر نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ خطرہ ہماری سوچ اور ہماری حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پر حملہ ہے۔ اگر ہماری حکومت اور دانشور اس کا مقابلہ نہیں کریں گے، تو جدید ٹیکنالوجی میں چھپا یہ ڈھانچہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کر دے گا۔  میڈیا میں میرے سولہ سالوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ لوگوں کی سوچ اور رائے کو کیسے بدلا جاتا ہے۔ خواہ آپ اسے پراپیگنڈا کہیں یا معلوماتی جنگ، یہ ہماری بنیادی سوچ کے خلاف ہے۔ ایک ایسی رائے بنا دیں جو آپ کے مقصد کے کام آئے، اور لوگ خود بخود آپ کی بنائی ہوئی حقیقت کو مان لیں گے۔ یونانی کہانیوں میں ایک عورت تھی میڈوسا، جس کی نظر میں ایسی طاقت تھی کہ وہ آدمی کو پتھر بنا دیتی تھی۔ علم اور زبان میں بھی ایسی ہی طاقت ہوتی ہے۔ کچھ بڑے مفکرین نے یہ سکھایا کہ الفاظ کے پیچھے چھپے ہوئے اصلی مطلب کو کیسے سمجھا جائے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ الفاظ کے معنی ہمیشہ ایک جیسے رہتے ہیں، اور یہی ہماری کمزوری ہے جسے پراپیگنڈا کرنے والے استعمال کرتے ہیں۔ میں نے دو ہزار بائیس میں میڈیا ...

لبرل اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی حقیقت

Image
 از : محمد بلال افتخار خان توحید سمجھ آ جائے تو مغربی لبرل ازم اور سرمایہ دارانہ نظام سمجھ آ جائے۔۔۔ سرمایہ دارانہ نظام فطرتی نہیں ہے۔۔۔ یہ بنیادی توڑ پر من مانی کی شاہرہ ہے۔۔۔ جس کی بنیاد میں ایک الجھن ہے۔۔۔ اللہ رب العزت نے ہمیں اپنی فطرت پر پیدا کیا۔۔۔ اُس کا کوئی شریک نہیں۔۔۔ ہمارے اربون شریک ہیں۔۔۔ پس سرمایہ دارانہ نظام اسی لیول پر خدائی رستہ اپنا لیتا ہے ہالنکہ اس نظام کے ماننے والون کے تو شریک ہی شریک ہیں۔۔ یہ انفرادیت ، یہ آزادی ،یہ طاقت ۔۔۔۔ اور پھر اس کو اخلاقیات سے بلند سمجھنا۔۔۔ کیا یہ مخلوق کو زیب دیتا ہے؟؟؟ نہیں ہرگز نہیں اسی لئے یہ سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل ازم فطرتی نہیں کیونکہ عقل اعلٰی ذات کا ادراک کرواتی ہے۔۔ایک چھوٹی سے دلیل کہ ایک میز خود بخود نہیں بن سکتی تو کائینات اور خود وجود حضرت انسان جو عقل اور جزبات رکھتا ہے کیسے خود بخود بن سکتا ہے۔۔۔ اگر کوئی ایولوشن کی مثال دیتا ہے تو بھائی ایولوشن کے لئے بھی ایک سٹارٹنگ پوائینٹ ہوتا ہے اور وہ سٹارٹنگ پوئینٹ خود با خود وجود میں نہیں آتا ۔۔ عقل اپنی بلوغت تک پہنچنے سے پہلے انکاری ہوتی ہے کیونکہ وہ حواس خمسہ کی م...

آلودہ چشمہ: استعماری اثرات کو شکست دینے کے لیے نظریاتی پاکیزگی کو برقرار رکھنا

Image
محمد بلال افتخار خان ایک چشمہ جو اپنی ابتدا میں ہی آلودگیوں سے گھرا ہوا ہو، اپنی پاکیزگی کھو دے گا ، اور یہ آلودگیاں اس کے پانی کو ابتدا ہی سے آلودہ کر دیں گی، جس کے نتیجے میں آلودہ دھارا بہے گا۔ اسی طرح، اگر نظریاتی دائرہ—جہاں سے خیالات جنم لیتے ہیں—غیر ملکی اثرات سے گھرا ہوا ہو، تو نتیجے میں بننے والا نظریہ خالص نہیں ہوگا بلکہ اصلی اور غیر ملکی عناصر کا ایک مرکب ہوگا۔ یہ فریم ورک غیر ملکی ہوگا لیکن اصل معلوم ہو سکتا ہے، اور اعمال غیر ملکی خیالات سے متاثر ہوں گے جبکہ وہ اصل یا مقامی سوچ پر مبنی دکھائی دیں گے۔ اس کا نتیجہ مختلف اثرات کا ایک مرکب ہوگا، اور اس کے نتائج غیر ملکی مفادات کو فائدہ پہنچائیں گے، جس سے نظریاتی الجھن پیدا ہوگی۔ اب، یہ مثال کسی کو یہ سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے کہ یہ اجنبیت کے خلاف نفرت  کو فروغ دیتی ہے، لیکن یہی وہ بات ہے جو وہ آپ سے چاہیں گے کہ آپ سوچیں۔ کسی بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے، نظریاتی سطح پر پاکیزگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسلام بھائی چارے اور انسانی زندگی و جائیداد کے احترام کی تعلیم دیتا ہے، کیونکہ سب آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔ لہٰذا، اسلا...

نوآبادیاتی میراث، نظریاتی بالادستی، اور اسلامی تحریکوں کا آلہ کار بنانا

Image
  Note :Google translate has been used to translate english article into Urdu تحریر محمد بلال افتخار خان نوآبادیاتی وراثت اور لبرل ازم کے نظریاتی غلبے سے گہرا اثر انداز ہونے والا جدید عالمی نظام مسلم دنیا کی جغرافیائی سیاست کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلامی معاشروں میں شناخت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسلسل بحرانوں کا پتہ استعمار کے ساختی تشدد اور مغربی تسلط کی طرف سے مسلط نظریاتی محکومیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان اثرات نے دیسی تمثیلوں میں ہیرا پھیری کی ہے اور تقسیم کو فروغ دیا ہے، جس سے مخمصوں کے اندر مخمصے پیدا ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تاریخی دراڑ اس بات کی ایک پریشان کن مثال کے طور پر کام کرتی ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی جوڑ توڑ نے اختلاف کے بیج بوئے جو آج تک برقرار ہے۔ انتہا پسندی کو بھی وقت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے اور اس کی دوبارہ تشریح کی گئی ہے، جو اکثر اسلامی فقہ یا اخلاقیات کی مستند روح کے بجائے بیرونی طاقتوں کے سٹریٹیجک مفادات سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ ان مظاہر کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس چیز کو "اسلامی دہشت گردی" کا نام...

تجزیہ : ترکی کی حکمت عملی کیا ہے؟؟؟

Image
ترکی کی اسٹریٹجک چالیں پیچیدہ لگ سکتی ہیں، لیکن یہ عالمی درجہ بندی میں اس کی تاریخی اہمیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ملک اپنی فوج کو جدید بنا رہا ہے، اپنی بحری، فضائی، اور زمینی قوتوں کو بڑھا رہا ہے، اور 2023 میں لوزان معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد اپنی اثر و رسوخ کا اظہار کر رہا ہے۔ زمین پر، ترکی کرد علیحدگی پسندوں سے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جنہیں اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ یہ متحرک 1990 کی دہائی کے عدنہ معاہدے سے جنم لیتی ہے، جس کے بعد اسرائیل نے کرد ملیشیا کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ امریکہ نے بھی عراق اور شام میں کرد فورسز کا استعمال کیا ہے۔ ترکی نے عراق اور شام میں کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں۔ مشرقی بحیرہ روم میں، ترکی تجویز کردہ گیس پائپ لائن پر اختلافات رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اور یورپ اسرائیل، قبرص، اور یونان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ وہ ان علاقوں میں کھدائی کے حقوق رکھتا ہے جو ترکی قبرص کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جو ممکنہ طور پر علاقائی تنازعے میں بڑھ سکتا ہے۔ ترکی کے پاس ایجیئن...

مشرق واسطہ کا سیاسی نظام، 911کے 23 سال بعد

Image
  از:محمد بلال افتخار خان   گیارہ ستمبر   دوہزار گیارہ کے حملوں کو تئیس  سال ہو چکے ہیں۔۔ ان  افسوسناک حملوں سے جہاں  تین ہزارکے لگ بھگ افراد جانبحق ہوئے وہیں ان حملوں نے امریکی   عقابوں کو  پیکس امریکانا کی خواہش  پوری کرنے کے لئے  فری ہینڈ یا کھلی چھوٹ دی۔۔۔ ان حملوں کے بعد دنیا بھر میں دہشتگردی کی جنگ کا آغاز ہوا اور امریکی انتظامیہ نے اقوام عالم کو صاف صاف لفظوں میں بتا دیا کہ یا تو وہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیں یا پھر انہیں مخالف سمجھا جائے گا۔۔۔ گیارہ ستمبر کے حملہ آور چونکہ تمام مسلمان تھے اس لیئے پہلے مرحلہ کے توڑ پر افغانستان پر حملہ ہوا اور چند ہفتوں میں ہی طالبان حکومت ختم کر کے امریکی حمایت یافتہ حکومت بنا دی گئی۔۔۔دو ہزار تین میں ویپن آف ماس ڈسٹرکشن سے متعلق جھوٹی انٹیلیجنس کے  نام پر عراق پر حملہ کیا گیا اور صدام حکومت گرا دی گئی۔۔ عراق جنگ نے مشرق وسطی کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والے مشرق وسطی کے سیاسی نظام میں ایک طرف امریکی  حمایت یافتہ بادشاہتیں اور امارات...

تبصرہ: مخمصوں کے اندر مخمصے

Image
 از محمد بلال افتخار خان افغانستان سے امریکی اور ایساف افواج کے انخلاء کو تین سال ہو چکے ہیں۔ پاکستان، جس نے تاریخی طور پر اپنے مغربی پڑوسی کی حمایت کی ہے، اپنے آپ کو ایک بار پھر افغانستان کے ساتھ متصادم پاتا ہے- ایک ایسا ملک جو اپنے قیام سے مسلسل پاکستان کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ پاکستان میں ایک وسیع عقیدہ تھا کہ امریکی اور ایساف افواج کے انخلاء سے دہشت گردی میں کمی آئے گی، اس توقع کے ساتھ کہ طالبان، غنی حکومت کے برعکس، ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ )۔ حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومتوں پر پشتون اور پاکستان مخالف عناصر کا غلبہ تھا، جن میں سے بہت سے سابقہ ​​شمالی اتحاد، ایک غیر پشتون، طالبان مخالف اتحاد سے وابستہ تھے۔ پاکستان، دنیا کی سب سے بڑی پشتون آبادی کا گھر، قدرتی طور پر پشتونوں کو غیر پشتونوں پر ترجیح دیتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر پشتون افغانوں کے ساتھ دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ امریکی انخلاء کے بعد، پاکستان نے امارت اسلامیہ افغانستان  کی اس امید پر حمایت کی کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکیں گے۔ د...

ایران اسرئیل تنائو۔۔آگے کیا ہو گا؟؟؟

Image
ایران پر کل ہونے والے اسرئیلی حملے کی نوعیت اور میڈیا پر آنے والی رپورٹس بہت سے سوالات اُٹھا رہی ہیں۔۔ کیا اسرائیل نے اپنا ڈیٹرنس کھو دیا ہے؟ اسرائیل جو پچھلی ایک دھائی سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور امریکی شمولیت کا خواہاں تھا، کیوں وقت آنے پر کمزوری دیکھا گیا؟ عالمی طاقتیں خصوصاً روس اور چین کیا سوچ رہے ہیں؟؟؟انہی سوالات پر سوچ رہا تھا ،تو ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق آج اسرائیلی جہازوں نے عراق میں ایرانی اتحادی گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔۔۔ پھر خبر آئی کہ خان یونس اور رفعا کہ علاقوں پر بھی اسرائیلی جہازوں پر بمباری کی ہے۔۔۔  اسی سوچ میں خیال آیا کہ اپنے اساتذہ سے تجزیہ لوں ۔۔ میں نے فوراً سر القمہ خواجہ اور سر شارح قاضی کو میسج کیا۔سر شارح کا جواب جلد آیا اور مجھےاکثر سوالات کا جواب مل گیا۔۔۔ سر شارح قاضی ایک کامیاب وکیل ہیں ، جبکہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔۔ ابھی حال ہی میں امریکہ میں سٹمسنز سینٹر میں فیلو شپ کے بعد واپس آئے ہیں۔۔۔ اُن سے میں نے کانفلیکٹ اینڈ کوپریشن ان ساوتھ ایشیاء پڑھا ہے ۔۔ اور میں اس بات کا معترف ہوں کہ اُن کا طریقہ تع...

بحیرہ ہند میں پیپلز لبریشن آرمی نیوی کی نئی حکمت عملی

Image
  پیپلز لبریشن آرمی نیوی  حالیہ برسوں میں بحر ہند کے علاقے میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اس کے ساتھ چینی نیوی نے سٹرنگ آف پرلز حکمت عملی  میں بھی  وقت کی ضروریات اور دفاعی قابلیت میں اضافے کے بعد اہم تبدیلیان کی ہیں   سٹرنگ آف پرلزکی حکمت عملی  انڈین اوشین ریجن میں بندرگاہوں اور دیگر سہولیات کے نیٹ ورک کی تعمیر پر مبنی تھی۔ یہ سہولیات  چینی بحریہ  کو خطے میں پاور پروجیکٹ کرنے اور  چینی  معاشی مفادات کی  حفاظت  کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔۔ چینی بحریہ  کی نئی بحری حکمت عملی  بلیو واٹر  آپریشنز کے تصور پر مبنی ہے۔ نیلے پانی کے آپریشن وہ ہوتے ہیں جو ملک کے ساحلوں سے دور کھلے سمندر میں کیے جاتے ہیں۔ اس  حکمت عملی کے لیے وسیع تر صلاحیتوں کے ساتھ زیادہ قابل اور مضبوط بحریہ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔چینی بحریہ اپنی اس حکمت عملی پر عمل درآمد   کے لیے نئے بحری جہازوں، ٹیکنولوجی ،ہوائی جہازوں اور ہتھیاروں کے نظام میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ چین کی نئی بحری حکمت عملی مشترکہ آپریشنز کے تصور پر مبنی...

گلوان تصادم کے تین سال بعد ،بھارت نے کیا سیکھا؟؟؟

Image
از محمد بلال افتخار خان ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرون سے شروع ہونے والے بھارت چین تعلقات ،بھارتی ہٹ دھرمی اور یک طرفہ فیصلون کی وجہ سے ایک بڑے تصادم کی طرف گامزن ہیں۔۔ چین جس نے ماضی میں تصادم سے ہمیشہ گریز کی پالیسی اپنائی اور بھارت سے متنازع سرحد پر امن کے لئے کئی معاہدے کئے یہان تک کے اپنے کلیم شدہ علاقے سکم میں بھارت کو ٹریڈنگ پوسٹ بنانے کی اجازت تک دے دی ۔۔ وہی چین بھارت کے چین مخالف سرگرمیوں  کی وجہ سے چینی اعتماد کھو بیٹھا ہے مزید بران ۔پانچ اگست دو ہزار انیس کے کشمیر سے متعلق مودی سرکار کے یک طرفہ فیصلے اور پھر جاہریت کی کھلی دھمکیون نے چین کو جاہرانہ حکمت عملی اپنانے  پر مجبور  کر دیا ہے پندرہ جون 2023 کو وادی گلوان  میں ہونے والے  تصادم کو تین سال ہو گئے ہیں، یہ تصادم کشمیر پر ہندوستانی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد لداخ کے علاقے گلوان میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان ہونے والی ایک شدید جھڑپ تھی۔ اس تصادم  میں 20 ہندوستانی فوجی بشمول کمانڈنگ افیسر کرنل سنتوش بابو ، سالہ بہار رجمنٹ ہلاک ہوئے۔۔ اس جھڑپ کے بعد  سے اب تک بھارت اور...

سیکورٹی کے مختلف تصورات اور ہائبریڈ جنگ :۱

Image
سیکورٹی   سے مراد  نقصان یا خطرے سے پاک ہونے کی حالت ہے، سیکیورٹی تب حاصل ہوتی ہے جب ریاست خطرت سے نپٹنے کی اہلیت حاصل کر لے۔۔آسان الفاظ میں سیکیورٹی ایک ذہنی حالت ہے۔۔ جو بقا کو لاحق خطرات سے نپٹنے کی اہلیت کی موجودگی میں حاصل ہوتی ہے۔ ٹریڈیشنل یا روائیتی  سیکورٹی سے مراد بیرونی فوجی خطرات، جیسے  دشمن کے حملے ،معاشی اور نظریاتی حملوں اور جاسوسی سے ریاست کی جسمانی سرحدوں اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ روایتی سیکورٹی نقطہ نظر ایسے خطرات کو روکنے یا شکست دینے کے لیے فوجی طاقت اور ڈیٹرنس کے استعمال پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر روایتی سیکیورٹی کا نظریہ قومی اور عالمی سلامتی کے لیے غیر فوجی خطرات، جیسے موسمیاتی تبدیلی، خوراک کی حفاظت، سائبر خطرات، وبائی امراض اور اقتصادی عدم استحکام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ غیر روایتی سلامتی کے خطرات اکثر بین الاقوامی ہوتے ہیں اور ان سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نقطہ نظر مختلف سیکورٹی خطرات کے باہم مربوط ہونے کو تسلیم کرتا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ریاستوں، بین الاقوامی تنظیموں اور غیر ریاستی اداکاروں ک...

بریٹن ووڈ معاہدہ اور ڈالر کی طاقت :حصہ اول

Image
بریٹن ووڈ معاہدہ 1944 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر کیاگیا جو دراصل  ایک نیے مالیاتی نظام سے متعلق تھا۔ اس معاہدےکا مقصد جنگ عظیم کی تباہ کاریون کے بعد کی دنیا کی تعمیر نو اور معاشی استحکام لانا تھا۔ اس معاہدے نے بڑی عالمی کرنسیوں کے درمیان ایک مقررہ شرح تبادلہ کا نظام قائم کیا، جس میں امریکی ڈالر دنیا کی ریزرو کرنسی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت، ممالک اپنی کرنسیوں کو امریکی ڈالر کے ساتھ نتھی کرنے پر راضی ہوئے بریٹن ووڈ سسٹم کے تحت امریکی ڈالر کی بالادستی قائم ہوئی جو کئی وجوہات کی وجہ سے تھی۔ اول، امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی (جو کہ اب بھی ہے)، جس کا عالمی تجارت اور مالیات میں غالب کردار تھا۔ دوم، امریکہ کے پاس سونے کے سب سے بڑے ذخائر تھے، جس نے امریکی ڈالر کی سونے میں تبدیلی پر اعتماد فراہم کیا۔ سوم، امریکی حکومت نے زر مبادلہ کی شرح کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری طور پر غیر ملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے ڈالر کی مقررہ قیمت کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔ بریٹن ووڈ کا نظام 1970 کی دہائی کے اوائل تک موجود تھا، جب امریکہ نے بلند افراط زر اور بڑھتے ہوئے ت...

ایران آزربائیجان کشیدگی

Image
  ایران آذربائیجان تعلقات  تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔۔ ایران ان اولین ممالک میں سے تھا جس نے 1992 میں آذرئیجان کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا۔۔۔ ایران اور آزربئیجان دو ونوں ہی مسلم اور ہم مسلک ممالک ہیں لیکن  نسلی اعتبار سے مختلف ہیں۔۔ ایرانی پرشین نسل سے جبکہ آزری  ترکش نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ ایران کا شمال مغرب میں آزری نسل کی اکثریت ہے اور  دو شمالی صوبوں،ایرانی مشرقی اور مغربی آزربائیجان کے علاوہ اردابیل  اور زنجان میں بھی آزری ری تعداد میں آباد  ہیں۔ آزربائیجان کی آزادی کے بعد ایران کو اپنے آزری علاقون میں  نسلی جزبات کی برہوتی کا شدید خوف ہے۔۔ جس کی وجہ سے ایران آزربائیجان میں  انقلاب ایران کے  فروغ کی کوشش کرتا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ  ایران نے آزربائیجان کے دشمن آرمینیا کی ہمیشہ ہمایت کی ہے۔۔ جنوری 2023 میں تہران میں آذربائیجان کے سفارت خانے پر حالیہ دہشت گردانہ حملے،کے بعد جس میں سفارت خانے کا عملہ بھی  ہلاک ہوا، دونوں ممالک کو جنگ کے قریب پہنچا دیا ہے۔۔ اس کشیدگی کا پورے  خطے کے ممالک  پر اثرات ہونگے۔۔۔ ...

کیا بھارت ٹو فرنٹ وار کی تیاری کر رہا ہے؟؟؟

Image
  بھارت ایک بار پھر کسی جاہریت کی تیاری کر رہا ہے۔۔۔ اطلاعات کے مطابق اس بار بھارت کا پلان مقبوضہ کشمیر کے اور حصہ کرنے کا ہے۔۔۔  بھارت لداخ کو ریاست بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کے لئے ہندو پنڈتوں اور ریٹائرڈ فوجیوں کو دھرادھر ڈومیسائیل دیئے جا رہے ہیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تیزی سے پیراملیٹری فورسس کو مقبوضہ وادی میں لایا جا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے لفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی بھی دہلی امد و رفت میں اضافہ ہوا ہے جہاں اُن کی اجیت دول اور امت شاہ سے متعدد ملاقاتین بھی ہوئی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے مسئلہ پر 24 جون کو کل جماعتی کانفرنس بلا لی ہے اور اس سلسلے میں گیارہ جماعتوں کو ابھی تک دعوت بھی دے دی گئی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس کانفرنس  کا مقصد مقبوضہ جموں اور کشمیر میں نئی حلقہ بندیون پر تبادلہ خیال کرنا ہے  جمعے کے روز امت شاہ ، اجیت دووال ، لفٹینٹ گورنر مقبوضہ کشمیر منوج سہنا ، ہوم  سیکریٹری اجے بھلا اور پیراملیٹری کمانڈرز کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔۔جس میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔۔۔اس موقع...