ایران اسرئیل تنائو۔۔آگے کیا ہو گا؟؟؟
ایران پر کل ہونے والے اسرئیلی حملے کی نوعیت اور میڈیا پر آنے والی رپورٹس بہت سے سوالات اُٹھا رہی ہیں۔۔ کیا اسرائیل نے اپنا ڈیٹرنس کھو دیا ہے؟ اسرائیل جو پچھلی ایک دھائی سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور امریکی شمولیت کا خواہاں تھا، کیوں وقت آنے پر کمزوری دیکھا گیا؟ عالمی طاقتیں خصوصاً روس اور چین کیا سوچ رہے ہیں؟؟؟انہی سوالات پر سوچ رہا تھا ،تو ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق آج اسرائیلی جہازوں نے عراق میں ایرانی اتحادی گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔۔۔ پھر خبر آئی کہ خان یونس اور رفعا کہ علاقوں پر بھی اسرائیلی جہازوں پر بمباری کی ہے۔۔۔
اسی سوچ میں خیال آیا کہ اپنے اساتذہ سے تجزیہ لوں ۔۔ میں نے فوراً سر القمہ خواجہ اور سر شارح قاضی کو میسج کیا۔سر شارح کا جواب جلد آیا اور مجھےاکثر سوالات کا جواب مل گیا۔۔۔ سر شارح قاضی ایک کامیاب وکیل ہیں ، جبکہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔۔ ابھی حال ہی میں امریکہ میں سٹمسنز سینٹر میں فیلو شپ کے بعد واپس آئے ہیں۔۔۔ اُن سے میں نے کانفلیکٹ اینڈ کوپریشن ان ساوتھ ایشیاء پڑھا ہے ۔۔ اور میں اس بات کا معترف ہوں کہ اُن کا طریقہ تعلیم نا صرف طالب علم میں ریسرچ کا شوق اور تجزیے کی گہرائی پیدا کرتا ہے بلکہ پیٹرنز سے ہٹ کر سوچنے کو تحریک دیتا ہے۔۔۔
میں نے سر سے پوچھا کہ سر گو ایران نے ڈیٹرنس مضبوط کر لیا ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ اس سب میں فائدہ پھر اسرائیل کو ہی ہو گا کیونکہ ایک تو مغرب کو اس نے ایران کا خطرہ باور کروا دیا ہے دوسرا کل ہم نے جی سیون اجلاس میں دیکھا کہ ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔۔۔ آج خان یونس اور عراق میں اسرائیلی حملے کیا ایران کے نظریاتی موقف کے لئے چیلنج نہیں جو ایک پوائینٹ پر ایران کو رد عمل دینے پر مجبور کر دے گا اور اس طرح ڈئنامکس کو اسرئیل کنٹرول کرے گا۔۔
سر شارح نے جواب دیا۔۔۔ بلال ، میرے خیال میں یہ معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے اگر اسرائیلی حملہ ایران کی ساورن ٹیریٹری یا ایرانی فورسس پر ہوتا تو معاملہ کچھ اور تھا چونکہ یہ پراکسی انگیجمنٹ ہے کہ اسرائیل نے ایرانی پراکسیز پر حملہ کیا ہے جس کا جواب بھی ایرانی پراکسیز دیں گی سو اس طرح کے معاملات میں مکمل جنگ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔دونوں اطراف اس وقت یہ خیال رکھ رہی ہیں کہ ایسے حالات نا بنیں، جو جنگ کی طرف جائیں۔۔۔ ریڈ سی کا راستہ پہلے ہی ہوثیون نے بند کیا ہوا ہے جس کی بدولت ایک کھرب ڈالڑ کا سالانہ کاروبار ہوتا ہے ایسے میں آبنائے ہرمز کا ایران کی جانب سے بند کر دیا جانا عالمی معیشت کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہو گا۔۔اسی لئے اسرئیل کو جاہریت سے روکا جا رہا ہے ۔۔
ایران چاہتا ہے کہ اسکیلیشن بڑھے تاکہ حالات کی نزاکت کو استعمال کرتے ہوئے وہ مغرب پر دبائو بڑھائے اور اسرائیل کو دبائو میں لا کر سہولیات حاصل کر سکے جس سے فلسطین میں جنگ کا خاتمہ ہو اور حماس کو فیس سیونگ مل سکے۔۔ جبکہ اسرائیل اپنی پراکسی انگیجمنٹ کی پالیسی پر عمل پیرا رہنا چاہتا ہے۔۔۔ اس اسکلیشن کے ذریعے وہ بھی تھرڈ پارٹی انگیجمنٹ چاہتا ہے تاکہ ایران کو کارنر کیا جا سکے۔۔۔
اس سب میں روس کے مفاد میں ہے کہ ہرمز بند ہو جائے جس کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھیں گی جس کا فائدہ روس کو ہو گا۔۔۔ روس ایران کو اپنے جدید ترین طیارے ایس یو ففٹی سیون بھی دے رہا ہے، جس کے بعد ایرانی فضائیہ اسرائیلی فضائیہ سے مقابلے کے قابل ہو جائے گی۔ چائنہ کے اوپر بات ختم ہوگی۔۔ چین پر پریشر بڑھے گا کہ وہ واضع پوزیشن لیں کیونکہ امریکیوں کا ایک موقف ہو گا ، روسیوں کا الگ۔۔۔ اور ایک ڈیڈ لاک کی صورتحال بن جائے گی ۔۔ فی الحلال ابھی سیدھی جنگ کی صورتحال نہیں۔۔ ابھی پراکسی ٹو پراکسی انگیجمنٹ دیکھیں گے ۔۔۔صورتحال ابھی وقت لے گی مزید اسکلیٹ ہونے میں۔۔۔
دنیا میں ملٹی پولیریٹی آ چکی ہے۔۔
بقول پروفیسر حسن فاروق مشوانی ایران کا اسرائیل پر حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے تحمل کی پالیسی ثابت کر رہی ہے کہ دنیا یونی پولیریٹی سے نکل چکی ہے اور امریکہ کو ادارک ہے کہ حالات پہلے جیسے نہیں۔۔۔ اسرائیل کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ہر حال میں خود کو خطے کی طاقتون کے درمیان طاقت ور ترین رکھنا چاہتا ہے جو اُس کی بقا کے لئے ضروری ہے۔۔۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرئیلی ڈیٹرنس کو دھچکا لگا ہے اور پہلا رائونڈ وہ ہار چکا ہے لیکن جنگ ابھی باقی ہے۔۔۔ مشرق وسطی میں پرکسی جنگون میں شدت پیدا ہو گی۔۔۔ اسرائیل مسلمانون کے درمیان تقسیم کی کوشش کرے گا اور پھر وقت آنے پر ایران کے خلاف بڑی جنگ کی طرف بڑھے گا
Comments
Post a Comment