گیارہ ستمبر سے پچیس سال بعد: گرتے ہوئے مینار، بکھرتے بیانیے اور غیر نوآبادیاتی حقیقت
از : محمد بلال افتخار خان گیارہ ستمبر دوہزار ایک۔۔۔ کو ہونے والے افسوس ناک حملوں نے جہاں عالمی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔۔۔ امریکی اشرافیہ جو سویت یونین کے ذوال کے بعد سے پیکس امریکانہ کا خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کو اپنے مفادات اور ہیجیمونی قائم کرنے کا بھرپور موقع دیا۔۔۔ وہین نیویارک کے جڑواں ٹاورز کا زمین بوس ہونا۔۔۔ صرف کنکریٹ اور لوہے کے ڈھانچوں کا گرنا نہیں تھا۔۔۔ بلکہ یہ اس جدید مغربی فکری عمارت کے گرنے کا نقطہ آغاز تھا جس نے خود کو تاریخ کا حتمی سچ بنا کر پیش کیا تھا۔۔۔ فرانسس فوکویاما ۔۔۔نے دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ مغربی لبرل جمہوریت تاریخ کی معراج ہے۔۔۔ اب تاریخ ختم ہو چکی ہے۔۔۔۔ مگر ٹھیک پچیس سال بعد، آج دوہزار چھبیس میں کھڑے ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھیں ۔۔۔تو واضح ہوتا ہے کہ تاریخ ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ بلکہ وہ اپنے اس غیر نوآبادیاتی (ڈی کلونیل) اور مابعد جدید (پوسٹ ماڈرن) موڑ پر داخل ہو رہی تھی جہاں طاقت، سچائی اور مرکزیت کے تمام روایتی پیمانے چکنا چور ہو گئے۔۔۔ گیارہ ستمبر کے بعد ربع صدی کے اس سفر نے دنیا کو کیسے بدلا؟ اس کا جواب کسی روای...