گیارہ ستمبر سے پچیس سال بعد: گرتے ہوئے مینار، بکھرتے بیانیے اور غیر نوآبادیاتی حقیقت
گیارہ ستمبر دوہزار ایک۔۔۔ کو ہونے والے افسوس ناک حملوں نے جہاں عالمی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔۔۔ امریکی اشرافیہ جو سویت یونین کے ذوال کے بعد سے پیکس امریکانہ کا خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کو اپنے مفادات اور ہیجیمونی قائم کرنے کا بھرپور موقع دیا۔۔۔ وہین نیویارک کے جڑواں ٹاورز کا زمین بوس ہونا۔۔۔ صرف کنکریٹ اور لوہے کے ڈھانچوں کا گرنا نہیں تھا۔۔۔ بلکہ یہ اس جدید مغربی فکری عمارت کے گرنے کا نقطہ آغاز تھا جس نے خود کو تاریخ کا حتمی سچ بنا کر پیش کیا تھا۔۔۔
فرانسس فوکویاما ۔۔۔نے دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ مغربی لبرل جمہوریت تاریخ کی معراج ہے۔۔۔ اب تاریخ ختم ہو چکی ہے۔۔۔۔ مگر ٹھیک پچیس سال بعد، آج دوہزار چھبیس میں کھڑے ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھیں ۔۔۔تو واضح ہوتا ہے کہ تاریخ ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ بلکہ وہ اپنے اس غیر نوآبادیاتی (ڈی کلونیل) اور مابعد جدید (پوسٹ ماڈرن) موڑ پر داخل ہو رہی تھی جہاں طاقت، سچائی اور مرکزیت کے تمام روایتی پیمانے چکنا چور ہو گئے۔۔۔
گیارہ ستمبر کے بعد ربع صدی کے اس سفر نے دنیا کو کیسے بدلا؟ اس کا جواب کسی روایتی ریاستی تجزیے سے نہیں۔۔۔ بلکہ نوآبادیاتی طاقت کے میکانزم اور مابعد جدید یعنی پوسٹ ماڈرن بیانیوں کے انتشار کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔۔۔
سچائی کی اجارہ داری اور بیانیوں کی دوئی
گیارہ ستمبر کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والا جملہ۔۔۔"یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ"۔۔۔محض عسکری دھمکی نہیں تھی، بلکہ یہ مغربی جدیدیت کا کلاسیکی ثنائی ڈھانچہ یابائنری اپوزیشن تھی۔۔۔۔ متمدن بمقابلہ وحشی، روشن خیال بمقابلہ تاریک، اور مرکز بمقابلہ حاشیہ۔
مابعد جدیدیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کوئی بھی بڑا بیانیہ یا۔۔۔گرینڈ نیریٹو ۔۔۔معروضی یا حتمی سچ نہیں ہوتا بلکہ وہ طاقت کی پیداوار ہوتا ہے۔۔۔ نائن الیون کے بعد "دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ" (وار آن ٹیرر) کے نام سے ایک ایسا ہی عالمی بیانیہ تراشا گیا۔ اس بیانیے کا مقصد دنیا پر ۔۔۔لبرل سرمایہ دارانہ مغربی ۔۔۔بالادستی کو ازسرِ نو نافذ کرنا تھا، جسے ڈی کلونیل فکر میں۔۔۔ "نوآبادیاتی طاقت کا تسلسل" (کولونیلٹی آف پاور)۔۔۔ کہا جاتا ہے۔ جغرافیائی نوآبادیات شاید بیسویں صدی میں ختم ہو چکی تھیں، لیکن سیاسی، عسکری اور اخلاقی نوآبادیات کا نیا روپ نائن الیون کے ملبے سے نمودار ہوا۔
پچیس سالہ اہم سنگِ میل: بالادستی سے بے دخلی تک
پچھلے پچیس برسوں میں تاریخ جس تیزی سے الٹ پلٹ ہوئی، اس کے چند واضح سنگِ میل ہیں۔۔۔
• افغانستان اور عراق پر یلغار (۲۰۰۱ء اور ۲۰۰۳ء): طاقت کے زعم میں کیے گئے یہ حملے نوآبادیاتی ذہنیت کا بدترین مظاہرہ تھے۔ عراقی عوام پر مسلط کی گئی تباہی کو "آزادی" اور "جمہوریت" کا لیبل دیا گیا، جو مابعد جدید اصطلاح میں "سچائی کا فریب" (سمیولاکرم) تھا۔
• عرب سپرنگ (۲۰۱۱ء): مشرقِ وسطیٰ کے روایتی آمرانہ ڈھانچوں کے خلاف عوامی بغاوت۔۔۔جس نے یہ ثابت کیا کہ مقامی لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے خواہاں ہیں۔۔۔ گو کہ بیرونی مداخلت نے اسے انتشار کی نذر کر دیا۔
• افغانستان سے انخلا (۲۰۲۱ء): کابل کے ہوائی اڈے سے افراتفری کے عالم میں امریکی انخلا نے جدید عسکری برتری کے متھ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔۔۔ بیس سالہ محاصرہ اور کھربوں ڈالرز کا خرچ مقامی مزاحمت اور زمینی حقائق کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
• غزہ کے المیے اور مغرب کا اخلاقی دیوالیہ پن: حالیہ برسوں کے خونریز معرکوں نے نام نہاد بین الاقوامی قانون، لبرل اخلاقیات اور انسانی حقوق کے مغربی بیانیے کو بے نقاب کر دیا۔۔۔ اب مغرب اخلاقی جواز کی بنیاد پر بولنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔
ڈی کلونیل شعور اور معروضی اخلاقیات کا خاتمہ
ڈی کلونیل تناظر سے دیکھیں تو نائن الیون کے بعد کے پچیس سال گلوبل ساؤتھ (جنوبی دنیا) کے فکری اور سیاسی بیدار ہونے کے سال ہیں۔۔۔۔مغرب نے طویل عرصے تک یہ طے کیا کہ انسان کون ہے، انسانی حقوق کیا ہیں اور کس کی جان قیمتی ہے۔۔۔ جب نیویارک کے ٹاورز گرے۔۔۔ تو پوری دنیا کے دکھ کو ایک مرکز پر سمیٹ لیا گیا۔۔ لیکن جب ڈرون حملوں میں وزیرستان، بغداد، قندھار اور بعد میں یمن اور غزہ میں ہزاروں نامعلوم چہرے لقمۂ اجل بنے۔۔۔۔ تو انہیں صرف کولیٹرل ڈیمیج قرار دیا گیا۔ ڈی کلونیل فکر نے اس تفریق کو چیلنج کیا۔۔۔ اس نے پوچھا کہ کس کا خون بہنے پر سوگ منایا جائے گا اور کس کی موت کو صرف شماریات میں بدلا جائے گا؟
پچیس سال بعد۔۔۔لاطینی امریکہ سے لے کر افریقہ اور ایشیا تک۔۔۔ یہ مطالبہ زور پکڑ چکا ہے کہ علم، قانون اور معیشت کو مغربی تسلط سے آزاد کرایا جائے۔۔۔ برکس (بی آر آئی سی ایس)۔۔۔ کا پھیلاؤ اور امریکی ڈالر کے تسلط سے چھٹکارے کی کوششیں۔۔۔ اسی سیاسی و معاشی ڈی کلونیلائزیشن کا عملی ثبوت ہیں۔۔۔
پوسٹ ماڈرن انتشار: سچائی کے بعد کی دنیا
گیارہ ستمبر کے ردعمل نے ایک غیر محفوظ دنیا کو جنم دیا۔۔۔ جس نے ہر شہری کو ریاست کی نگرانی کے شکنجے میں کس دیا۔۔۔ مگر اس کے ردعمل میں جو مابعد جدید ٹیکنالوجی (انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل رابطے) ابھری۔۔۔۔ جس نے خود مرکزی ریاست کے کنٹرول کو توڑ دیا۔۔۔۔
آج دو ہزار چھبیس میں ہم "پوسٹ ٹروتھ" (سچائی کے بعد) کے دور میں جی رہے ہیں۔ اب کوئی ایک ایسا نشریاتی ادارہ نہیں رہا جو پوری دنیا کو بتا سکے کہ کیا سوچنا ہے۔۔۔ سمارٹ فون کی سکرین نے۔۔۔ مینارِ نور سمجھے جانے والے روایتی میڈیا ہاؤسز کی اجارہ داری چھین لی ہے۔۔۔ جب طاقت کا مرکز ٹوٹتا ہے۔۔۔ تو سچائی کے کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے بن جاتے ہیں۔۔۔ ایک طرف اس نے آزادی دی۔۔۔ تو دوسری طرف تصدیق شدہ سچ کا خاتمہ کر کے گہرے فکری عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔۔۔
ایک ملٹی پولر اور بکھری ہوئی دنیا
نائن الیون کے پچیس سال بعد کا سب سے بڑا سبق یہ ہے۔۔۔ کہ ایک مرکز پر قائم رہنے والییونی پلولردنیا اب ختم چکی ہے۔۔۔ مغرب کا یہ دعویٰ۔۔۔ کہ اس کے پاس دنیا کو چلانے کا واحد ترقی پسند ماڈل ہے۔۔۔ اب ایک ناکام تاریخی مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔
دنیا اب کثیر قطبی (ملٹی پولر) اور کثیر المعانی بن چکی ہے۔۔۔ پچیس سال قبل لڑی جانے والی جنگوں نے خود حملہ آوروں کو معاشی، اخلاقی اور نفسیاتی طور پر کھوکھلا کر دیا۔۔۔ آج کی دنیا غیر نوآبادیاتی جدوجہد کے اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنوبی دنیا کے لوگ اب مغربی عینک اتار کر اپنی تاریخ، اپنی خود مختاری اور اپنے وجود کو اپنی زبان میں بیان کرنے کی مکمل جسارت کر رہے ہیں۔۔۔ ولڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز گرنے سے جو آگ بھڑکی تھی، اس نے کسی متمدن عالمی نظام کو جنم نہیں دیا۔۔۔ بلکہ سامراجی غرور کو جلا کر راکھ کر دیا۔۔۔اور دنیا کو اس کی غیر متوازن، بکھری ہوئی لیکن اصل حقیقت کے روبرو لا کھڑا کیا۔۔۔

Comments
Post a Comment