Posts

سیکورٹی کے مختلف تصورات اور ہائبریڈ جنگ :۱

Image
سیکورٹی   سے مراد  نقصان یا خطرے سے پاک ہونے کی حالت ہے، سیکیورٹی تب حاصل ہوتی ہے جب ریاست خطرت سے نپٹنے کی اہلیت حاصل کر لے۔۔آسان الفاظ میں سیکیورٹی ایک ذہنی حالت ہے۔۔ جو بقا کو لاحق خطرات سے نپٹنے کی اہلیت کی موجودگی میں حاصل ہوتی ہے۔ ٹریڈیشنل یا روائیتی  سیکورٹی سے مراد بیرونی فوجی خطرات، جیسے  دشمن کے حملے ،معاشی اور نظریاتی حملوں اور جاسوسی سے ریاست کی جسمانی سرحدوں اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ روایتی سیکورٹی نقطہ نظر ایسے خطرات کو روکنے یا شکست دینے کے لیے فوجی طاقت اور ڈیٹرنس کے استعمال پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر روایتی سیکیورٹی کا نظریہ قومی اور عالمی سلامتی کے لیے غیر فوجی خطرات، جیسے موسمیاتی تبدیلی، خوراک کی حفاظت، سائبر خطرات، وبائی امراض اور اقتصادی عدم استحکام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ غیر روایتی سلامتی کے خطرات اکثر بین الاقوامی ہوتے ہیں اور ان سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نقطہ نظر مختلف سیکورٹی خطرات کے باہم مربوط ہونے کو تسلیم کرتا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ریاستوں، بین الاقوامی تنظیموں اور غیر ریاستی اداکاروں ک...

بریٹن ووڈ معاہدہ اور ڈالر کی طاقت :حصہ اول

Image
بریٹن ووڈ معاہدہ 1944 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر کیاگیا جو دراصل  ایک نیے مالیاتی نظام سے متعلق تھا۔ اس معاہدےکا مقصد جنگ عظیم کی تباہ کاریون کے بعد کی دنیا کی تعمیر نو اور معاشی استحکام لانا تھا۔ اس معاہدے نے بڑی عالمی کرنسیوں کے درمیان ایک مقررہ شرح تبادلہ کا نظام قائم کیا، جس میں امریکی ڈالر دنیا کی ریزرو کرنسی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت، ممالک اپنی کرنسیوں کو امریکی ڈالر کے ساتھ نتھی کرنے پر راضی ہوئے بریٹن ووڈ سسٹم کے تحت امریکی ڈالر کی بالادستی قائم ہوئی جو کئی وجوہات کی وجہ سے تھی۔ اول، امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی (جو کہ اب بھی ہے)، جس کا عالمی تجارت اور مالیات میں غالب کردار تھا۔ دوم، امریکہ کے پاس سونے کے سب سے بڑے ذخائر تھے، جس نے امریکی ڈالر کی سونے میں تبدیلی پر اعتماد فراہم کیا۔ سوم، امریکی حکومت نے زر مبادلہ کی شرح کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری طور پر غیر ملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے ڈالر کی مقررہ قیمت کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔ بریٹن ووڈ کا نظام 1970 کی دہائی کے اوائل تک موجود تھا، جب امریکہ نے بلند افراط زر اور بڑھتے ہوئے ت...

ایران آزربائیجان کشیدگی

Image
  ایران آذربائیجان تعلقات  تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔۔ ایران ان اولین ممالک میں سے تھا جس نے 1992 میں آذرئیجان کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا۔۔۔ ایران اور آزربئیجان دو ونوں ہی مسلم اور ہم مسلک ممالک ہیں لیکن  نسلی اعتبار سے مختلف ہیں۔۔ ایرانی پرشین نسل سے جبکہ آزری  ترکش نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ ایران کا شمال مغرب میں آزری نسل کی اکثریت ہے اور  دو شمالی صوبوں،ایرانی مشرقی اور مغربی آزربائیجان کے علاوہ اردابیل  اور زنجان میں بھی آزری ری تعداد میں آباد  ہیں۔ آزربائیجان کی آزادی کے بعد ایران کو اپنے آزری علاقون میں  نسلی جزبات کی برہوتی کا شدید خوف ہے۔۔ جس کی وجہ سے ایران آزربائیجان میں  انقلاب ایران کے  فروغ کی کوشش کرتا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ  ایران نے آزربائیجان کے دشمن آرمینیا کی ہمیشہ ہمایت کی ہے۔۔ جنوری 2023 میں تہران میں آذربائیجان کے سفارت خانے پر حالیہ دہشت گردانہ حملے،کے بعد جس میں سفارت خانے کا عملہ بھی  ہلاک ہوا، دونوں ممالک کو جنگ کے قریب پہنچا دیا ہے۔۔ اس کشیدگی کا پورے  خطے کے ممالک  پر اثرات ہونگے۔۔۔ ...

کیا بھارت ٹو فرنٹ وار کی تیاری کر رہا ہے؟؟؟

Image
  بھارت ایک بار پھر کسی جاہریت کی تیاری کر رہا ہے۔۔۔ اطلاعات کے مطابق اس بار بھارت کا پلان مقبوضہ کشمیر کے اور حصہ کرنے کا ہے۔۔۔  بھارت لداخ کو ریاست بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کے لئے ہندو پنڈتوں اور ریٹائرڈ فوجیوں کو دھرادھر ڈومیسائیل دیئے جا رہے ہیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تیزی سے پیراملیٹری فورسس کو مقبوضہ وادی میں لایا جا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے لفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی بھی دہلی امد و رفت میں اضافہ ہوا ہے جہاں اُن کی اجیت دول اور امت شاہ سے متعدد ملاقاتین بھی ہوئی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے مسئلہ پر 24 جون کو کل جماعتی کانفرنس بلا لی ہے اور اس سلسلے میں گیارہ جماعتوں کو ابھی تک دعوت بھی دے دی گئی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس کانفرنس  کا مقصد مقبوضہ جموں اور کشمیر میں نئی حلقہ بندیون پر تبادلہ خیال کرنا ہے  جمعے کے روز امت شاہ ، اجیت دووال ، لفٹینٹ گورنر مقبوضہ کشمیر منوج سہنا ، ہوم  سیکریٹری اجے بھلا اور پیراملیٹری کمانڈرز کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔۔جس میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔۔۔اس موقع...

حماس اسرائیل جنگ اور محرکات

Image
پس منظر دو ہزار ستارہ میں امریکی صد ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر کی سربراہی میں مشرق وسطٰی میں امن منصوبے کی تشکیل کا کام شروع ہوا اس پلان کو کشنر پلان یا ڈیل آف دی سینچری بھی کہا جاتا ہے۔۔ اس پلان کے دو حصے تھے پہلا معاشی اور دوسرا عرب اسرائیلی تنازع کے حل کے لئےایک جامع پلان اس سلسلے میں جون  دو ہزار انیس میں بحرین میں ایک معاشی کانفرنس بھی ہوئی دو ہزار بیس میں ٹرمپ نے وائیٹ ہاوس میں اسرائیلی  وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں اس منصوبے کا اعلان کیا۔  کشنر پلان کے مطابق یروشلم پر اسرائیلی حق تسلیم کیا گیا جبکہ گولان کا علاقہ بھی اسرائیل کا حصہ ہی قرار دیا گیا حماس اسرائیل جنگ کے دو  پہلو ہیں پہلا ڈیل  آف دی سینچری کے مطابق  اسرائیل کا یروشیلم پر قبضہ اور اس سلسلے میں فلسطینیوں کو طاقت کے  زور پر  نکالنے کی کوشش۔۔۔ نظر آ رہا ہے کہ ڈیل آف سینچری اور ابرہام اکارڈ کے بعد بعض عرب ممالک بھی اس اسرائیلی عمل کو خاموشی سے سپورٹ کر رہے ہیں۔۔ دوسرا فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے درمیان تنازع جہان فلسطینی اتھارٹی کی ہمدردیان حماس کے ساتھ نہیں ہیں اور بعض رپورٹ...

اسرائیلی کارگو جہاز پر آبنائے ہرمز میں حملہ۔۔۔کیا کوئی امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے؟؟؟

Image
  ۔اسرائیلی رجسٹرڈ  کارگو بحری جہاز ایم وی ہیلیوس رے  پر جمعے کے روز خلیج اومان میں حملہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کارگو جہاز پر حملے کی وجہ سے جہاز میں جہاز کی دونوں اطراف سوراخ ہو گیا۔۔۔ اس بات کی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ آیا یہ میزائیل حملہ تھا یا سمندری سرنگ اس کے ساتھ چپکائی گئی تھی جو پھٹی حملے میں جہاز کا عملہ محفوظ رہا ۔۔۔ یہ جہاز سعودی بندرگاہ دمام  سے روانہ ہوا تھا اس جہاز کی ملکیت تل ابیب میں واقع رے شپنگ کمپنی کی ہے ، جس کا سربراہ ، رامی انگر  کے  موساد کے سربراہ یوسی کوہن سے  قریبی تعلقات ہیں  اسی طرح کے پراسرار دھاکے دو ہزار انیس میں آبنائے  ہرمز کے قریب دو آئل ٹینکرز  اور دو دیگر جہازوں پر بھی ہوئے تھےجس کے بعد  امریکی فوج نے ان واقعات کا الزام ایران پر لگایا تھا امریکی فوج  نے ایک فوٹیج  بھی جاری کی تھی  جس سے تاثر ملتا تھا کہ یہ کام ایران نے کیا ہے۔۔۔ ایران کی حکومت نے ان حملوں میں کسی بھی کردار سے انکار کیا تھا  اسرئیلی جہاز پر حملہ  امریکہ کی جانب سے شام میں ایران سے منسلک ملیشیاؤں کے خلا...

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ سری لنکا اور بھارتی پراپر گینڈا

Image
وزیر اعظم عمران خان 23 فروری سے سری لنکا کا دو روزہ دورہ کریں گے   دورہ سری لنکا میں وزیر اعظم عمران خان سری لنکا کے صدر گوتابایا راجہ پکسے،وزیر اعظم مہندا راجہ پکسا سے اور سری لنکن وزیر خارجہ دنیش گونا وردنے سے ملاقاتیں کریں گے جن میں پاک سری لنکا تعلقات کے فروغ، تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے اور عالمی فورمز پر اتفاق رایے کے حوالے سے بات چیت کریں گے،طویل عرصہ سے زیر التواء سارک اجلاس اور سری لنکا میں کورونا سے متاثرہ مسلم برادری کی تدفین کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے  سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سری لنکا میں تجارت اور سرمایہ کاری کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے اور کولمبو میں ایک سپورٹس انسٹیٹیوٹ کا افتتاح بھی کریں گے سری لنکا میں کورونا وباء نمودار ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان سری لنکا کا دورہ کرنے والے پہلے عالمی رہنماہوں گے ،ماضی میں سابق راہنما ایوب خان اور ذولفقار علی بھٹو میں سری لنکا کے دوروں میں لنکن پارلیمان سے خطاب بھی کر چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا وزیر اعظم پاکستان کے دورے سے کافی پریشان نظر آ رہا ہے۔۔ سری لنکن اخبار ڈیلی ایکسپریس کی  سولہ فروری کی...