Posts

تبصرہ: مخمصوں کے اندر مخمصے

Image
 از محمد بلال افتخار خان افغانستان سے امریکی اور ایساف افواج کے انخلاء کو تین سال ہو چکے ہیں۔ پاکستان، جس نے تاریخی طور پر اپنے مغربی پڑوسی کی حمایت کی ہے، اپنے آپ کو ایک بار پھر افغانستان کے ساتھ متصادم پاتا ہے- ایک ایسا ملک جو اپنے قیام سے مسلسل پاکستان کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ پاکستان میں ایک وسیع عقیدہ تھا کہ امریکی اور ایساف افواج کے انخلاء سے دہشت گردی میں کمی آئے گی، اس توقع کے ساتھ کہ طالبان، غنی حکومت کے برعکس، ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ )۔ حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومتوں پر پشتون اور پاکستان مخالف عناصر کا غلبہ تھا، جن میں سے بہت سے سابقہ ​​شمالی اتحاد، ایک غیر پشتون، طالبان مخالف اتحاد سے وابستہ تھے۔ پاکستان، دنیا کی سب سے بڑی پشتون آبادی کا گھر، قدرتی طور پر پشتونوں کو غیر پشتونوں پر ترجیح دیتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر پشتون افغانوں کے ساتھ دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ امریکی انخلاء کے بعد، پاکستان نے امارت اسلامیہ افغانستان  کی اس امید پر حمایت کی کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکیں گے۔ د...

ایران اسرئیل تنائو۔۔آگے کیا ہو گا؟؟؟

Image
ایران پر کل ہونے والے اسرئیلی حملے کی نوعیت اور میڈیا پر آنے والی رپورٹس بہت سے سوالات اُٹھا رہی ہیں۔۔ کیا اسرائیل نے اپنا ڈیٹرنس کھو دیا ہے؟ اسرائیل جو پچھلی ایک دھائی سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور امریکی شمولیت کا خواہاں تھا، کیوں وقت آنے پر کمزوری دیکھا گیا؟ عالمی طاقتیں خصوصاً روس اور چین کیا سوچ رہے ہیں؟؟؟انہی سوالات پر سوچ رہا تھا ،تو ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق آج اسرائیلی جہازوں نے عراق میں ایرانی اتحادی گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔۔۔ پھر خبر آئی کہ خان یونس اور رفعا کہ علاقوں پر بھی اسرائیلی جہازوں پر بمباری کی ہے۔۔۔  اسی سوچ میں خیال آیا کہ اپنے اساتذہ سے تجزیہ لوں ۔۔ میں نے فوراً سر القمہ خواجہ اور سر شارح قاضی کو میسج کیا۔سر شارح کا جواب جلد آیا اور مجھےاکثر سوالات کا جواب مل گیا۔۔۔ سر شارح قاضی ایک کامیاب وکیل ہیں ، جبکہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔۔ ابھی حال ہی میں امریکہ میں سٹمسنز سینٹر میں فیلو شپ کے بعد واپس آئے ہیں۔۔۔ اُن سے میں نے کانفلیکٹ اینڈ کوپریشن ان ساوتھ ایشیاء پڑھا ہے ۔۔ اور میں اس بات کا معترف ہوں کہ اُن کا طریقہ تع...

بحیرہ ہند میں پیپلز لبریشن آرمی نیوی کی نئی حکمت عملی

Image
  پیپلز لبریشن آرمی نیوی  حالیہ برسوں میں بحر ہند کے علاقے میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اس کے ساتھ چینی نیوی نے سٹرنگ آف پرلز حکمت عملی  میں بھی  وقت کی ضروریات اور دفاعی قابلیت میں اضافے کے بعد اہم تبدیلیان کی ہیں   سٹرنگ آف پرلزکی حکمت عملی  انڈین اوشین ریجن میں بندرگاہوں اور دیگر سہولیات کے نیٹ ورک کی تعمیر پر مبنی تھی۔ یہ سہولیات  چینی بحریہ  کو خطے میں پاور پروجیکٹ کرنے اور  چینی  معاشی مفادات کی  حفاظت  کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔۔ چینی بحریہ  کی نئی بحری حکمت عملی  بلیو واٹر  آپریشنز کے تصور پر مبنی ہے۔ نیلے پانی کے آپریشن وہ ہوتے ہیں جو ملک کے ساحلوں سے دور کھلے سمندر میں کیے جاتے ہیں۔ اس  حکمت عملی کے لیے وسیع تر صلاحیتوں کے ساتھ زیادہ قابل اور مضبوط بحریہ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔چینی بحریہ اپنی اس حکمت عملی پر عمل درآمد   کے لیے نئے بحری جہازوں، ٹیکنولوجی ،ہوائی جہازوں اور ہتھیاروں کے نظام میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ چین کی نئی بحری حکمت عملی مشترکہ آپریشنز کے تصور پر مبنی...

گلوان تصادم کے تین سال بعد ،بھارت نے کیا سیکھا؟؟؟

Image
از محمد بلال افتخار خان ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرون سے شروع ہونے والے بھارت چین تعلقات ،بھارتی ہٹ دھرمی اور یک طرفہ فیصلون کی وجہ سے ایک بڑے تصادم کی طرف گامزن ہیں۔۔ چین جس نے ماضی میں تصادم سے ہمیشہ گریز کی پالیسی اپنائی اور بھارت سے متنازع سرحد پر امن کے لئے کئی معاہدے کئے یہان تک کے اپنے کلیم شدہ علاقے سکم میں بھارت کو ٹریڈنگ پوسٹ بنانے کی اجازت تک دے دی ۔۔ وہی چین بھارت کے چین مخالف سرگرمیوں  کی وجہ سے چینی اعتماد کھو بیٹھا ہے مزید بران ۔پانچ اگست دو ہزار انیس کے کشمیر سے متعلق مودی سرکار کے یک طرفہ فیصلے اور پھر جاہریت کی کھلی دھمکیون نے چین کو جاہرانہ حکمت عملی اپنانے  پر مجبور  کر دیا ہے پندرہ جون 2023 کو وادی گلوان  میں ہونے والے  تصادم کو تین سال ہو گئے ہیں، یہ تصادم کشمیر پر ہندوستانی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد لداخ کے علاقے گلوان میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان ہونے والی ایک شدید جھڑپ تھی۔ اس تصادم  میں 20 ہندوستانی فوجی بشمول کمانڈنگ افیسر کرنل سنتوش بابو ، سالہ بہار رجمنٹ ہلاک ہوئے۔۔ اس جھڑپ کے بعد  سے اب تک بھارت اور...

سیکورٹی کے مختلف تصورات اور ہائبریڈ جنگ :۱

Image
سیکورٹی   سے مراد  نقصان یا خطرے سے پاک ہونے کی حالت ہے، سیکیورٹی تب حاصل ہوتی ہے جب ریاست خطرت سے نپٹنے کی اہلیت حاصل کر لے۔۔آسان الفاظ میں سیکیورٹی ایک ذہنی حالت ہے۔۔ جو بقا کو لاحق خطرات سے نپٹنے کی اہلیت کی موجودگی میں حاصل ہوتی ہے۔ ٹریڈیشنل یا روائیتی  سیکورٹی سے مراد بیرونی فوجی خطرات، جیسے  دشمن کے حملے ،معاشی اور نظریاتی حملوں اور جاسوسی سے ریاست کی جسمانی سرحدوں اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ روایتی سیکورٹی نقطہ نظر ایسے خطرات کو روکنے یا شکست دینے کے لیے فوجی طاقت اور ڈیٹرنس کے استعمال پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر روایتی سیکیورٹی کا نظریہ قومی اور عالمی سلامتی کے لیے غیر فوجی خطرات، جیسے موسمیاتی تبدیلی، خوراک کی حفاظت، سائبر خطرات، وبائی امراض اور اقتصادی عدم استحکام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ غیر روایتی سلامتی کے خطرات اکثر بین الاقوامی ہوتے ہیں اور ان سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نقطہ نظر مختلف سیکورٹی خطرات کے باہم مربوط ہونے کو تسلیم کرتا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ریاستوں، بین الاقوامی تنظیموں اور غیر ریاستی اداکاروں ک...

بریٹن ووڈ معاہدہ اور ڈالر کی طاقت :حصہ اول

Image
بریٹن ووڈ معاہدہ 1944 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر کیاگیا جو دراصل  ایک نیے مالیاتی نظام سے متعلق تھا۔ اس معاہدےکا مقصد جنگ عظیم کی تباہ کاریون کے بعد کی دنیا کی تعمیر نو اور معاشی استحکام لانا تھا۔ اس معاہدے نے بڑی عالمی کرنسیوں کے درمیان ایک مقررہ شرح تبادلہ کا نظام قائم کیا، جس میں امریکی ڈالر دنیا کی ریزرو کرنسی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت، ممالک اپنی کرنسیوں کو امریکی ڈالر کے ساتھ نتھی کرنے پر راضی ہوئے بریٹن ووڈ سسٹم کے تحت امریکی ڈالر کی بالادستی قائم ہوئی جو کئی وجوہات کی وجہ سے تھی۔ اول، امریکہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی (جو کہ اب بھی ہے)، جس کا عالمی تجارت اور مالیات میں غالب کردار تھا۔ دوم، امریکہ کے پاس سونے کے سب سے بڑے ذخائر تھے، جس نے امریکی ڈالر کی سونے میں تبدیلی پر اعتماد فراہم کیا۔ سوم، امریکی حکومت نے زر مبادلہ کی شرح کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری طور پر غیر ملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے ڈالر کی مقررہ قیمت کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔ بریٹن ووڈ کا نظام 1970 کی دہائی کے اوائل تک موجود تھا، جب امریکہ نے بلند افراط زر اور بڑھتے ہوئے ت...

ایران آزربائیجان کشیدگی

Image
  ایران آذربائیجان تعلقات  تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔۔ ایران ان اولین ممالک میں سے تھا جس نے 1992 میں آذرئیجان کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا۔۔۔ ایران اور آزربئیجان دو ونوں ہی مسلم اور ہم مسلک ممالک ہیں لیکن  نسلی اعتبار سے مختلف ہیں۔۔ ایرانی پرشین نسل سے جبکہ آزری  ترکش نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ ایران کا شمال مغرب میں آزری نسل کی اکثریت ہے اور  دو شمالی صوبوں،ایرانی مشرقی اور مغربی آزربائیجان کے علاوہ اردابیل  اور زنجان میں بھی آزری ری تعداد میں آباد  ہیں۔ آزربائیجان کی آزادی کے بعد ایران کو اپنے آزری علاقون میں  نسلی جزبات کی برہوتی کا شدید خوف ہے۔۔ جس کی وجہ سے ایران آزربائیجان میں  انقلاب ایران کے  فروغ کی کوشش کرتا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ  ایران نے آزربائیجان کے دشمن آرمینیا کی ہمیشہ ہمایت کی ہے۔۔ جنوری 2023 میں تہران میں آذربائیجان کے سفارت خانے پر حالیہ دہشت گردانہ حملے،کے بعد جس میں سفارت خانے کا عملہ بھی  ہلاک ہوا، دونوں ممالک کو جنگ کے قریب پہنچا دیا ہے۔۔ اس کشیدگی کا پورے  خطے کے ممالک  پر اثرات ہونگے۔۔۔ ...